| خوش کن لمحوں کی مرہون ہے نظر عنایت کیا |
| جب یہ بھید نہ جانو تو پھر اس کی وضاحت کیا |
| کاش دعائیں اور تمنائیں بھی نظر آئیں |
| دیکھیں حرف محبت کیا ہے حسن سماعت کیا |
| ایک تواتر شام و سحر کا رکھتا ہے مصروف |
| فطرت نے اس حسن عمل میں رکھی غایت کیا |
| تیر گئی خوشبو سی ہوا میں رنگ نظر آئے |
| پائی گل لالہ میں ہم نے اس کی شباہت کیا |
| جگ والوں کی دنیا اور ہے دل والوں کی اور |
| پتھریلے لہجوں سے کہے پھولوں کی لطافت کیا |
| اچھے لوگوں سے ملنے کا شوق برا تو نہ تھا |
| الگ تھلگ چپ رہنے کی اب ہوگئی عادت کیا |
| پیار بھری دلدار فضا میں گیت ابھرتے ہیں |
| رنگ سخن سے ہم آمیز ہے حسن عبارت کیا |
کوئی تبصرے نہیں
Please do not enter any spam link in the comment box.